حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندہ سے گفتگو کے دوران حوزہ علمیہ خواہران کی استاد محترمہ مریم پور حسینی نے قرآن اور دینی تعلیمات کی روشنی میں کامیاب خاندان کے معیارات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: قرآن کریم کی نظر میں مطلوب خاندان وہ ہے جو اس مہربانی اور رحمت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائے جو خداوند نے اس خاندان کے اراکین کے درمیان رکھی ہے تاکہ محبت، احترام، ادب اور خالص مہربانی خاندان کے درمیان زندگی کے تمام پہلوؤں میں جاری رہے۔
انہوں نے کہا: ایسا خاندان معنویت اور خدا سے تعلق سے فائدہ اٹھا کر اس مقام تک پہنچ جاتا ہے کہ اس کی عبادتیں اور بندگیاں پروردگار کے ہاں قابل قدر اور اثر انگیز ہوتی ہیں اور یہاں تک کہ اولاد نہ ہونا یا مادی سہولیات کی کمی جیسی ظاہری کمی بھی انہیں الہی رحمت اور برکتوں سے فائدہ اٹھانے سے نہیں روکتی۔
حوزہ علمیہ خراسان کی استاد نے سورہ انسان کا کامیاب خاندان کے تصور سے تعلق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: سورہ "ہل اتیٰ" ایک الہی خاندان میں ہمدردی، ہم آہنگی اور ایثار کی ایک واضح مثال پیش کرتی ہے۔ اس سورہ میں ہم ایک ایسے خاندان کا مشاہدہ کرتے ہیں جو مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے خدا پر توکل اور ایک باخبر فیصلے کے ساتھ میدان میں آتا ہے اور ایثار اور محبت کے جذبے کے ساتھ رضایتِ الہی کا راستہ منتخب کرتا ہے۔
انہوں نے کہا: خاندان کے اراکین کی ہم آہنگی، الہی احکام پر توجہ، باہمی محبت اور بندگی کے راستے میں اجتماعی حرکت، وہ اہم ترین خصوصیات ہیں جنہوں نے اس خاندان کو ایک پائیدار نمونہ بنا دیا ہے۔
محترمہ پور حسینی نے اس سوال کے جواب میں کہ کامیاب خاندان کو دوسرے خاندانوں سے کیا چیز ممتاز کرتی ہے، کہا: ایسے خاندان کی سب سے اہم خصوصیت "خاندانی تقویٰ" ہے۔ تقویٰ کے معنی اپنی ذمہ داری کو پہچاننا اور اس پر عمل کرنا ہے اور جس خاندان میں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے، اس کے اراکین ایک دوسرے کے ساتھ ذمہ داری محسوس کرتے ہیں اور صرف زندگی کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے پر اکتفا نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا: گھر محض آرام اور زندگی گزارنے کی جگہ نہیں ہے بلکہ یہ ترقی اور تربیت کا ماحول ہے اور خاندان کے اراکین مختلف اعتقادی، اخلاقی، سماجی، ثقافتی اور حتیٰ کہ سیاسی شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ ذمہ داری اور تعہد محسوس کرتے ہیں۔
حوزہ علمیہ کی اس استاد نے کامیاب خاندان کی تشکیل میں والدین کے کردار کے بارے میں کہا: قرآن کریم اور روایات کی روشنی میں والدین کا خاندان میں بنیادی مقام ہے۔ انہیں زمین اور آسمان سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ جس طرح زمین اور آسمان کے بغیر زندگی کا کوئی معنی نہیں، اسی طرح والدین کے صحیح کردار کے بغیر خاندان کمال کو نہیں پہنچ سکتا۔ ماں زمین کی طرح آرام، نشوونما اور پرورش کا ذریعہ ہے تو باپ آسمان کی طرح خاندان کے لیے عظمت، اقتدار اور راہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ ہم آہنگی اور راہنمائی صرف دنیوی زندگی کے دور تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے اثرات انسان کی برزخی زندگی میں بھی جاری رہتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ